3 مئی 2013 - 19:30
کينيڈا ميں انساني حقوق کي مسلسل خلاف ورزيوں پر تشويش

دنيا کے مختلف ملکوں نے اقوام متحدہ کي انساني حقوق کونسل ميں کينيڈا ميں انساني حقوق کي مسلسل خلاف ورزيوں پر تشويش کا اظہار کيا ہے-

ابنا: دنيا کے تراسي ملکوں  نے حاليہ دنوں ميں کئي بار اقوام متحدہ کي انساني حقوق کونسل ميں کينڈا کے اصل باشندوں کے حقوق کي پامالي، خواتين کے خلاف تشدد ميں اضافے اور سماجي و اقتصادي ناانصافيوں ميں ہونے والے اضافے پر تشويش کااظہار کيا ہے-عالمي تشويش کے تناظر ميں اقوام متحدہ کي انساني حقوق کونسل نے حکومت کينيڈا سے اپيل کي ہے کہ وہ اس کي وضاحت پيش کرے کے کہ اس نے انساني حقوق کي خلاف ورزيوں کي روک تھام کے لئے مناسب اقدامات کيوں  نہيں کئے-کينڈا کے اصل باشندوں کے خلاف حکومت کے  ناروا سلوک پر بڑھتي تشويش کے بعد اقوام متحدہ کے خصوصي رپورٹر  کينيڈا ميں انساني حقوق کي خلاف ورزيوں کي تحقيقات شروع کرنے والے ہيں-اقوام متحدہ کي انساني حقوق کونسل کے تين خصوصي رپورٹر رواں سال کے موسم گرما ميں کينيڈا کا دورہ کرنے والے ہيں جہاں وہ انساني حقوق کي خلاف ورزيوں کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کا جائزہ ليں گے-کينڈا ميں انساني حقوق کي خلاف ورزيوں کے بارے ميں جاري ہونے والي متعدد رپورٹوں اور خاص طور پر ريڈ انڈينوں کے خلاف  حکومت کينيڈا کے غير انساني سلوک کےبارے ميں ايمنسٹي انٹر نيشنل جيسے عالمي اداروں کي رپورٹوں  سے اس بات کي نشاندھي ہوتي ہے کہ اوٹاوا حکومت کافي عرصے سے  انساني حقوق کي خلاف ورزيوں کا ارتکاب کرتي چلي آرہي ہے-ان تمام باتوں کے باوجود حکومت کينيڈا ريڈ انڈينوں کے خلاف متعصبانہ رويہ ترک کرنے کے لئے تيار نہيں ہے بلکہ اس ميں بعض اوقات شدت ہي ديکھنے ميں آئي ہے- حالانکہ مقامي باشندوں  کو کينیڈا کا  فرسٹ نيشن قرار ديا جاتا ہے، ليکن اس کے  باوجود کينيڈا کي وفاقي اور صوبائي حکومتين ان کے لئے ملکيت کے حق کو تسليم نہيں کرتين  اور صحت ، علاج معالجے اور پينے کے صاف پاني ، تعليم اور ہاوسنگ ميں ان  کے ساتھ امتيازي سلوک کا مظاہرہ کرتي ہيں-کينيڈا ميں مقامي باشندوں کي خواتين اور لڑکے لڑکيوں کے ساتھ بھي امتياز  کا مظاہرہ کيا جاتا ہے –کہا جارہا ہے کہ کينڈا کے اصل باشندوں کو سماجي تعصبات کا بھي نشانہ بنايا جاتا ہے اور حتي انکے خلاف جنسي تشدد کي بھي خبريں موصول ہوتي رہيں ہيں- اعداد وشمار کے مطابق کينيڈاکے مقامي باشندوں کي تعداد بارہ لاکھ سے زائد بتائي جاتي ہے  جنہيں زندگي کي کمترين سہولتوں سے بھي محروم رکھا گيا ہے   اور ان کے درميان غربت ، خودکشي،  اور منشيات کے استعمال کا تناسب بہت زيادہ ہے-

.......

/169